مظاہرین پر وحشیانہ تشدد- ایران پرمزید پابندیاں

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 11 d ago
مظاہرین پر وحشیانہ تشدد- ایران پرمزید پابندیاں

 

واشنگٹن: مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے تہران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ستمبر میں نوجوان ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی اخلاقیات پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد بدامنی کے خلاف ایران کے اقدامات پر یہ اقدامات مغربی ممالک کا تازہ ترین ردعمل اور حالیہ مہینوں میں تہران کے ساتھ مغرب کے پہلے سے ہی خراب تعلقات کے عکاس ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ فاؤنڈیشن ’بدعنوانی کا سرچشمہ‘ ہے اور فورس کو بیرون ملک کارروائیوں کے لیے فنڈز مہیا کرتی ہے۔‘ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب فورس حکومت پرامن مظاہرین کو دبانے کے لیے ظالمانہ کریک ڈاؤن کر رہی ہے اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘ فاؤنڈیشن کے پانچ بورڈ ممبران کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے جن میں انٹیلی جنس کے نائب وزیر ناصر راشدی سمیت دیگر چار سینیئر کمانڈرز شامل ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے عہدیدار برائن نیلسن کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کو تب تک جوابدہ ٹھہراتے رہیں گے جب تک وہ تشدد، جھوٹے مقدموں، مظاہرین کو پھانسی لگانے اور عوام کو دبانے کے دیگر ہتھکنڈے جاری رکھے گا۔

برطانیہ نے ایران کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل احمد فاضلی پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس غیرقانونی طریقہ کار کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے سزائے موت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس کی جانب سے پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کیومرث حیدری، حسین نجات کے علاوہ بسیج ملیشیا کے کمانڈر سالار ابنوش اور قاسم ریزائی کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی کا کہنا ہے کہ ’آج جن لوگوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سزائے موت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والی عدالتی شخصیات سے لے کر سڑکوں پر مظاہرین کو مارنے والے غنڈوں تک شامل ہیں جو حکومت کے جبر کا مرکزی حصہ رہے ہیں۔

اسی طرح یورپی یونین نے ایران کے 37 حکام کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ ان کے ویزوں پر بھی پابندی لگائی ہے۔ ان میں ایران کے کھیلوں کے وزیر، پاسداران انقلاب کے کمانڈر، سخت گیر سیاست دان، سرکاری میڈیا سے وابستہ حکام اور نام نہاد ’اخلاقی پولیس‘ کے سربراہ شامل ہیں۔

تاہم دوسری جانب 27 ممالک پر مشتمل بلاک نے جرمنی اور نیدرلینڈز کے مطالبات کے باوجود پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دینے اور بلیک لسٹ کرنے کا معاملہ روک دیا ہے۔ یورپی یونین کے فارن چیف جوزف بوریل کا کہنا ہے کہ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں آپ کو دہشت گرد قرار دیتا ہوں کیونکہ میں آپ کو پسند نہیں کرتا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا تب کیا جاتا ہے جب عدالت قانونی طور پر ٹھوس مذمت جاری کرتی ہے۔‘