حج کا پہلا سفرنامہ:ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما, حرمین شریفین کی تہذب و ثقافت کا آئینہ دار

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 24-05-2026
 حج کا پہلا سفرنامہ:ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما,  حرمین شریفین کی تہذب و ثقافت کا آئینہ دار
حج کا پہلا سفرنامہ:ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما, حرمین شریفین کی تہذب و ثقافت کا آئینہ دار

 



عمیر منظر  

اردو میں حج کے اولین سفرنامہ نگاروں میں سید شاہ عطاحسین، نواب سکندر بیگم بھوپال،نواب صدیق حسن خاں کا نام لیا جاتا ہے لیکن محمد منصب علی خاں کا سفرنامہ ”ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما“ کو اولیت حاصل ہے۔مطبع محب کشور ہند میرٹھ سے 1873میں شائع ہوا۔قطعات تاریخ طبع سے 1290ھ ہجری برآمد ہوتا ہے۔جنوری 1871کو میرٹھ سے سفر حج شروع ہوا تھا اور واپسی مئی کا آخری ہفتہ ہے۔یہ ایک دلچسپ اور معلومات افزا سفرنامہ ہے۔سفرنامہ نگار کا گذر جن شہروں سے ہوا ہے اس کا احوال بھی مشاہدہ کے ساتھ قلم بند کرنے کی وجہ سے اس سے زمانے کی معاشرت اور بود و بادش کا اندازہ ہوجاتا ہے۔مثلاًممبئی کے بارے میں لکھا ہے کہ ”تمام شہروں میں کلاں،وسیع اور پررونق ہے“۔سفرنامہ میں پارسی،میمن،بوہرہ،کوکنی،خوجہ اور ان کے علاوہ ممبئی کی دیگرقوموں کاذکر کیا گیا ہے۔سفرنامہ نگار کو ممبئی سے شکایت ہے کہ یہاں مکانوں کا کرایہ بہت زیادہ ہے اور  سرا کوئی نہیں ہے۔
محمد منصب علی خاں فالج کے شکار ہوکر شفایاب ہوچکے تھے جب حج کا ارادہ کیا تو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں مرض پلٹ نہ آئے۔حکیم بلدیوسہائے سے مشوہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ”کارخیر میں مرض مسلط نہ ہوگا“۔ایک انگریز ایلفرڈ لوئس صاحب ڈاکٹر رجمنٹ چہارم سواران ملکہ معظمہ نے بھی ہمت بندھائی۔سفرنامہ کو مکہ اور مدینہ کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کاآئینہ دار بھی کہا جاسکتا ہے۔اس سفرنامہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ سفرنامہ نگار کا اسلوب بہت شگفتہ ہے۔جگہ جگہ انھوں نے شاعری بھی کی ہے۔سفر حج کے آغاز میں ہمراہیوں کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ساتھ اچھا،یار موافق،احباب صادق،رفیق دلسوز،عزیز محبت اندوزقافلہ یگانہ ہر شخص فرزانہ اسی میں تو چل نکل نیک کام میں پوچھتا کیا۔(ص6)
سفرنامے میں حجاج کے لیے کچھ رہنما خطوط دیے گئے ہیں کہ پانی کے جہاز سے کس طرح اور کیسے سفر کریں۔کہاں کہاں دھوکے کا خطرہ ہے۔جہاز پر لے جانے والی چیزوں کی باقاعدہ ایک فہرست مرتب کی ہے کہ انھیں ممبئی سے خریدلیں،مکہ میں بہت گراں ملیں گی۔ اس فہرست میں احرام کے علاوہ اشیائے خوردو نوش نیز خشک تمباکو وغیرہ بھی شامل ہیں۔اسی طرح انھوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ جب کوئی ہندوستانی حج کا ارادہ کرے تو اپنے ساتھ نقد روپیہ صرف اتنا ہی لے جائے جو ممبئی تک کافی ہو۔ سونا یا اشرفیاں نہ لے جائیں۔جہاز کے باورچیوں نے کھانے کے لیے حجاج کو حد سے زیادہ تنگ کیا جس کا احوال بھی ہے۔ثقہ اور غیر ثقہ بہت سے واقعات اس میں درج ہیں جو سفرنامے کو دلچسپ بناتے ہیں۔
منصب علی خاں بن منور علی خاں میرٹھ کے رہنے والے ایک سرکاری ملازم تھے۔ اپنے ہی شہر چند لوگوں کے ہمراہ میرٹھ سے 4جنوری 1871کو بذریعہ ریل الہ آباد کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں سے جبلپور ہوتے ممبئی کے بائکلہ اسٹیشن پہنچے۔وہاں سے پانی کے جہاز سے انھیں جانا تھا۔اس کا جو تجربہ ان کے سامنے آیااس بارے میں وہ لکھتے ہیں۔
 جہازوں کے دلالوں کی چالاکیاں اور عیاریاں زائد البیان ہیں۔دلال کیا ہیں سراسر ضلال و مضل اور مجمع زور و ضلال ہیں۔ مسافروں کو ایسے ایسے دھوکے دیتے ہیں اور فریب کرتے ہیں کہ یا رائے عرض نہیں۔بعضے سادہ لو ح ان کے جل میں آ کر نول(جہاز کاکرایہ) کاروپیہ انہیں دے دیتے ہیں وہ ہضم کر کے ڈکار بھی نہیں لیتے۔ (ص26)
28 جنوری 1871 کو گنگا جہاز کے چار بجے روانہ ہونے کی خبر ملی۔بہ ہزار دقت مسافر جہاز میں پہنچے اور اپنے اپنے اسباب کو رکھا۔29 جنوری کو مردم شماری ہوئی۔تین انجینئر ایک کپتان اور متعدد خلاصیوں کے ساتھ جہاز لنگر انداز ہوا۔جہاز کے اندر کا احوال ملاحظہ کریں۔
جن کے پاس چٹھیاں نہ تھیں ان سے 10پانچ پانچ روپے جو حاضر وقت تھا کرایہ لے لیا گیا اگرچہ ادنی درجے کی نشست کا کرایہ فی کس 30 روپے مقرر ہوا تھا۔بعضوں کو جہاز سے اتار بھی دیا۔بعضے کابلی بلا ادائے کرایہ بیٹھ گئے تھے وہ جوتیاں کھاتے تھے اور باہر نہ جاتے تھے۔(ص31)
جہاز کی رفتار اور دریا میں کثرت سے سانپ اور ایک وہیل مچھلی دیکھنے کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ جہازکے نظم وضبط کے بارے میں ہے کہ جس سے مسافروں کو بہت پریشانی اٹھانی پڑی یہاں تک کہ بہت سے لوگ بیمار بھی ہوگئے۔جہاز جب عدن پہنچاتو وہاں کے موسم کی شدت اور  بازاروں کی صفائی وغیرہ کی بہت تعریف کی ہے۔اس کے قدرتی حسن اور پہاڑی سلسلے کو بھی بیان کیا ہے۔یعنی کچھ قدرت کا عطیہ اور کچھ حسن انتظام کے سبب یہاں کی بہت سی چیزیں پسند آئیں ۔عدن کے اکثر لوگ اردو بولتے ہیں البتہ سمالی قوم کو جاہل مطلق اور نامعقول قرار دیا ہے۔وہاں کی عورتوں کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ناشائستگی سے باز نہیں آتیں اورانھیں تیرنے میں یکتائے روزگار قرار دیا ہے۔
 10 فروری کو اکثر لوگوں نے نہا دھو کر احرام باندھا ۔12 فروری 1871 مطابق 21 ذیقعدہ 1287 10 بجے صبح کو جہاز جدہ پہنچ گیا۔جہاز پر سوار ہونے اوراترنے کا منظر بہت تکلیف دہ ہے۔
حکم نزول ہوتے ہی عرب کشتیوں کو لے کر دوڑے جہاز کو گھیر لیا۔خود اسباب لوگوں کا اٹھا اٹھا کرکشتیوں میں رکھنا شروع کردیا۔خوان یغما کا عالم ہوگیا۔لوٹ مچ گئی۔مالک کہیں اسباب کہیں۔اس خرشی میں بعضے مسافروں کا مال تلف ہوگیا۔ص46)البتہ جدہ کی سیرت سے طبیعت نہال ہوگئی۔وہاں کے قہوہ خانوں نے نہ صرف اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ مسافر تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکا۔بڑے بڑے قہوہ خانے موجود ہیں چائے قہوہ حقہ جو مانگو حاضر۔ ایک خمسہ کو چلم اور ایک پیسے میں چائے قہوہ کی پیالی بھر دیتے ہیں۔ اچھے اچھے وضعداراور شریف قہوہ خانوں میں جا کر دل بہلاتے ہیں خلاف اس کے ہمارے ملک میں بھینگر جمخانے چنڈو خانے ہیں۔بدوضع اور اوباش فراہم ہو کر واہیات اور فحش بکتے ہیں۔(ص50)جدہ میں انگریزی پیسے کا بالکل چلن نہیں۔ ریال سکہ فرانس کا موزے دو روپے چار آنے چلتا ہے۔
18 فروری 1871 کو یہ قافلہ جدہ سے روانہ ہوا۔روانگی کے وقت تیز ہوا اور ایسی بارش ہوئی کہ تمام اسباب بھیگ گیا۔اونٹ کے سفر کا تجربہ نہیں تھا جس کی وجہ سے سخت تکلیف اٹھاکر کسی طرح چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔
حرم شریف اور مکہ کے بارے میں اس سفرنامے میں خاصی معلومات ہیں۔حرم شریف کی فضیلت اور اس کے مختلف ناموں کا ذکر قرآنی آیات کے حوالوں سے کیاگیا ہے۔یہ بھی لکھا ہے کہ”بیت اللہ کی کرسی قدم آدم اور چھت بہت بلند ہے۔فرش سنگ مرمر کا اور دیواروں میں بھی چاروں طرف سنگ مرمر کا نصب ہے“۔حرم شریف کے کبوتروں کے بارے میں لکھا ہے کہ بے شمار کبوتر ہیں لیکن خانہ کعبہ کے اوپر سے نہیں گزرتے جبکہ مسجد میں ادھر ادھر اڑتے رہتے ہیں۔کعبے کی چھت پر کبھی کسی کبوتر کو بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔مزید لکھتے ہیں:
حرم کے دروازوں میں فی دروازہ پانچ ہڈیاں بلور کی لٹکتی ہیں ایک روز میں نے غالبا 1400 ہانڈیاں گنی ہوں گی یہ سب ہانڈیاں رمضان المبارک سے محرم الحرام تک ہر شب روشن ہوتی ہیں روغن زیتون کا خرچ ہے روم سے آتا ہے۔ روشنی و صفائی کے اہتمام کو بہت سے خدام نوکر ہیں۔ مطاف کے اور حجروں کے اندرونی ہانڈیاں 12 مہینے روشن ہوا کرتی ہیں۔ روشنی کی کیفیت کا کیا التماس کروں اندیشہ ہے کہ سیاہی حروف نہ اڑجائے۔کاغذ سفید نہ رہ جائے نماز میں 40 50 ہزار کا مجمع ہوتا ہے۔(ص71)
 اہل مکہ عمدہ رنگین لباس مثل بانات قیمتی صوف وغیرہ پہنتے ہیں۔وہاں کے مکانوں میں صحن نہیں ہوتا مگر لوگ گھروں میں ہی رہتے ہیں نیز وہاں چارپائی کا رواج بہت کم ہے لوگ ملائم اور نفیس گدے دیوار سے لگاکر استعمال کرتے ہیں۔ وہاں کے بازار بھی وسیع ہیں۔ حرم کے چاروں طرف نہایت پر رونق بازار ہیں اور ان میں کئی بازار خفیہ فروشی کے ہیں جہاں لونڈی غلام حبشی وغیرہ ہر عمر کے بکتے ہیں 20 ریال سے 5 ہزار تک کا انسان خرید لو۔ سفرنامہ نگار بھی مولوی محمد حسن کے ساتھ اس بازار میں گیا اور وہاں کا حال دیکھا جس پر ان کو افسوس ہوا۔اس وقت مکہ کے دو حاکم ہیں ایک شریف عبداللہ اور دوسرا پاشا دونوں بالاتفاق فرماروائی کرتے ہیں۔مکہ معظمہ کے احوال میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”جو بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں ان کے دونوں رخساروں پر تین تین لکیریں گود دی جاتی ہیں پھر ان بچوں کو کوئی پکڑتا نہیں“ یہاں کے لوگوں کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ درست مزاج عربدہجو اور ذرا سی بات میں لڑ پڑتے ہیں البتہ ہندوستانیوں کی طرح فحش نہیں بکتے۔
منی کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک مختصر سی آبادی ہے مکہ معظمہ سے تین کوس عرفات کی طرف ہے حج کے بعد تین دن منی میں قیام رہتا ہے۔اس وقت یہاں پانی کی سخت قلت ہے بارش کا جو پانی جمع رہتا ہے اسی کو پیتے ہیں۔ 
جبل عرفات مکہ سے نو کوس مشرق میں ہے۔ اونٹ کی سواری سے وہاں جاتے ہیں یہ میدان بہت وسیع ہے ہر طرف خیمے ہی خیمے اس میں ایرانیوں کا قیام الگ حنفیوں کا الگ۔ یعنی ایک چھوٹی سی پہاڑی جو 300 فٹ بلندی پر ہے اس پر دو مسجدیں ہیں۔ان مسجدوں میں فریقین الگ الگ نماز اور دعا میں مصروف ہوتے ہیں۔29 ذی الحجہ کو مدینہ اونٹ سے روانہ ہوئے۔راستے کی مختلف آبادیوں اور مقامات کا تعارف اور وہاں کی بعض حیرت انگیز چیزوں کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ مقام مستورہ کے بارے میں ہے کہ یہاں کا پانی بہت کڑوا بلکہ زہر ہے مچھلیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔بیر عباس کے بارے میں لکھا ہے کہ یہاں گوشت لکڑی کھجور پانی وغیرہ بکثرت ہے جو بدو قیمتاً اپنے گاؤں سے لا کر دیتے ہیں۔10 محرم کویہ قافلہ مدینہ شریف پہنچا۔اس وقت مدینہ کی آبادی  25 سے 30 ہزار کی ہے۔یہاں  پہنچ کر ان کے ذہن میں اسلامی تاریخ پوری طرح روشن ہو جاتی ہے وہ صرف جنت البقیع کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس کے ضمن میں عہد نبوی کے مختلف معرکوں کا ذکر کرتے ہیں اور شہدا کو یاد کرتے ہیں۔
مسجد نبوی کا احوال اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ پورا منظر ہر پڑھنے والے کی آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے۔بلند گنبد،ان پر کندہ قرانی آیات، مختلف قسم کے نقش و نگار، طلائی کام،اندرونی دیواروں پر سرخ و سفید میناکاری۔دروازوں پر سنہرا کام۔تمام مسجد میں سرخ قالین کا فرش،ہانڈیوں کی زنجیریں اور روشنی کا ایسا عمدہ انتظام کی کہیں بھی کوئی بیٹھ کر باسانی قران پاک کی تلاوت کر سکتا ہے۔
مدینے کی آب ہوا نہایت خوش گوار اور معتدل ہے اور یہاں کی زمین زرخیز اور سرسبز و شاداب ہے۔ طرح طرح کے درخت ہیں۔گندم، جوار، باجرہ وغیرہ کھیتی ہوتی ہے۔انہوں نے ایک تجربہ یہ بھی لکھا ہے کہ مدینے میں ہمیشہ گرانی رہتی ہے آٹا چاول زیادہ نہیں ملتا مگر کوئی شخص گھبراتا نہیں ہے اور نہ کسی طرح کی شکایت زبان پر لاتا ہے۔اس موقع پر ہندوستان کی مثال بھی پیش کی ہے کہ یہاں لوگ کفران نعمت کے مرتکب جلد ہو جاتے ہیں۔ مدینہ کے اطراف کی بات چھوٹی آبادیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اشیائے خوردنی یہاں مل جاتی ہیں پانی کی کمی نہیں ہے نشیب میں کھجوروں کے سرسبز و شاداب باغ ہیں،جہاں مسافربیٹھ کر آرام پاتے ہیں میدان بدر دیکھنے اور شہدا کی قبروں کا احوال اور اسی ضمن میں جنگ بدر کے معرکے کا ذکر ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سفرنامہ نگار کو اسلامی تاریخ سے غیر معمولی واقفیت تھی۔
عرب کی شادیوں کا ذکر کیا ہے کہ وہاں کس طرح آسانی سے شادی ہو جاتی ہے اور بیوہ سے بھی شادی کرنے کا عام رواج ہے۔عرب کی شادیوں میں مکان کی ارائش کا تکلف زیادہ ہوتا ہے۔ولیمے کا یہ لوگ بڑا خیال رکھتے ہیں۔ قہوہ، چائے اور خشک تمباکو پینے کا شادیوں میں رواج ہے۔
منصب علی خاں نے لکھا ہے کہ عرب میں اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کی میت کو تجز و تکفین کے بعد صندوق میں رکھ کر حرم شریف میں لے جاتے ہیں جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔ حج کے دنوں میں جنازے کی نماز بکثرت ہوتی ہے یہاں تک کہ 50، 50 ہزار لوگ سے زیادہ میت کی نماز میں لوگ شامل ہوتے ہیں۔
کتاب کے آخر میں زبان عرب کے حوالے سے اپنے تجربات بھی درج کیے گئے ہیں یعنی یہ کہ اگر مسافر عربی نہیں جانتا اور مترجم بھی نہ ہو تو اس کے لیے بڑی دشواری ہوتی ہے۔اسی لیے انہوں نے سفرنامے کے آخر  میں کئی صفحات پر مشتمل  روز مرہ استعمال ہونے والے عربی الفاظ مع ترجمہ درج کیے ہیں تاکہ ہندوستان سے حج کو جانے والے ان کو یاد کر لیں۔وہ لکھتے ہیں 

جب تک انسان زبان عربی سے واقفیت نہیں رکھتا یا کوئی مترجم اس کے ساتھ نہیں ہوتا تب تک اس کو اپنا مطلب ادا کرنے اور دوسرے کا مقصد سمجھنے اور خرید اشیاء وغیرہ میں نہایت دقت ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اکثر مسافر غیر ملک کے مثل بت کھڑے رہتے ہیں۔ نہ اپنی بات کہہ سکتے ہیں نہ دوسرے کی سمجھتے ہیں۔ جو کہ عربی زبان کا یاد کرنا وہاں کے مسافروں کے واسطے ایک ضروری امر ہے اس لیے ہم کچھ محاورے عرب کی بنظر افادہ خاص و عام قلم بند کرتے ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں۔واضح ہو کہ عرب کے عوام لوگوں کی زبان بہ اعتبار لفظ صحیح نہیں ہوتی۔جیسے جو کوت حم یعنی ثلاثہ کو تلاتہ اور قاف کو گاف اور ذات کو دال یعنی قاضی کو گادی بولتے ہیں اس لیے مسافروں کو چاہیے کہ جب عوام عرب سے گفتگو کریں تو ایسے تلفظوں کو سمجھ لیا کریں تاکہ دقت نہ ہو۔(125)

 ان تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود مسلمانوں کے شوقِ حج میں کبھی کمی نہیں آئی۔ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی لوگ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے بیت اللہ پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔