شری موہن بھاگوت کا ایک اور بیان: ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 1 Years ago
شری موہن بھاگوت

 

awazurdu

 پروفیسر اخترالواسع

آر ایس ایس کے سربراہ شری موہن بھاگوت نے اپنے آسام کے دو روزہ دورے پر ایک تقریر میں اس بات کا اظہار کیا کہ ارادتاً 20ویں صدی کے اوائل سے مسلمانوں میں آبادی کے اضافے کی شرح کو بڑھانے کی کوشش کی گئی تاکہ اکثریت حاصل کرکے ایک نیا ملک بنایا جا سکے اور پاکستان کا قیام اسی کے ذریعے ممکن ہوا جب کہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ جن لوگوں نے قائم کی وہ تقسیم بنگال کے فیصلے سے دل شکستہ اور مایوس تھے۔ دوسرے یہ کہ اس بات کو تمام مؤرخین عام طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ انگریزوں کی ”پھوٹ ڈالو راج کرو“ کی پالیسی مسلم لیگ کے عروج اور تقسیم وطن کے لئے ذمہ دار تھی۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم وطن ایک بد نصیب سانحہ تھی اور اگرچہ وہ انگریزوں کی پرفریب سیاست، ہندوؤں میں مہاسبھا کے ایک علیحدہ مسلم ریاست بنائے جانے کے اجمیر ریزولیوشن، محمد علی جناح، کچھ مسلم جاگیرداروں اور کچھ نوکری پیشہ افراد کے مفاداتِ حاصلہ کی بازیابی کی خواہش تحت ایسا ہوا لیکن اس کے لئے آبادی میں اضافے کو کسی سازش کی بنیاد بتانا صحیح نہیں ہے۔

 ایسا لگتا ہے کہ آسام میں موجودہ حکومت کے وزیر اعلیٰ شری ہیمنت وسوا سرما نے مسلم علاقوں میں آبادی پر قابو پانے کے لئے ایک ہزار افراد پر مشتمل جس جَن سنکھیا سینا کے قیام کا اعلان کیا، یہ اس کی تائید و حمایت میں دیا گیا بیان تھا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش حکومت نے بھی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے دو بچوں سے زیادہ نہ پیدا کئے جائیں، کے ضابطے کے تحت جس قانون سازی کا اعلان کیا ہے یہ سب اس کو ایک منطقی جواز دینے کی کوشش ہے۔

ہم یہاں یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی یقینی طور پر ملک اور اس کے بسنے والوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے اورا س کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کے لئے ایسی مؤثر حکمت عملی وضع ہونی چاہیے جس سے کہ اس مسئلے کا حل ہو سکے۔ لیکن اس کے لیے کسی ایک فرقے کو نشانہ بنانا صحیح نہیں ہے۔

جَن سنکھیا سینا اگر بنانی ہے تو وہ صرف مسلمانوں کے لئے کیوں؟ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں آبادی کے اضافے کے لئے صرف بیس فیصد مسلمان تو ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ ہندوستان کی تمام سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں نے اس بات کی توثیق اور تصدیق کر دی ہے کہ مسلمانوں میں آبادی کی شرح میں خاصی گراوٹ آئی ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔

جیسے جیسے ان میں تعلیم آئے گی، ثروت اور تمول پیدا ہوگا۔ خاص طور پر تعلیم نسواں میں اضافہ ہوگا، اس کے نتیجے میں وہ شعور پیدا ہونا لازمی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کی جائے۔رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی سب سے بہتر طریقہ ہے۔ منصوبہ بندی اگر رضاکارانہ نہ ہو بلکہ جبریہ ہو تو اس کا حشر ہم 1975 اور 1977میں ایمرجینسی کے بدترین دور میں دیکھ چکے ہیں جب شری سنجے گاندھی نے شرح آبادی پر قابو پانے کے لئے وہ تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں 1977 میں اس ملک کی ”خاتونِ آہن“ وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کے لاڈلے سنجے گاندھی سمیت ساری کانگریس پارٹی کی اس کے ہم نواؤں سمیت لٹیا ڈوب گئی تھی۔

 ہمیں لوگوں کو مذہب و ملت، زبان اور علاقے کی تفریق سے اوپر اٹھ کر یہ سمجھانے کی ضرورت ہے نہ کہ خوب و ہراس پیدا کرکے دبانے کی کہ خاندانی منصوبہ بندی ان کے اپنے حق میں ہے۔ ایک بات یہاں اور واضح کرتے چلیں اور وہ شری موہن بھاگوت کے لفظوں میں کہ اب ہندوستان پر کسی ایک مذہبی گروہ کا غلبہ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہندوؤں کا نہ مسلمانوں کا بلکہ یہ غلبہ ہندوستانیوں کا ہوگا۔

شری موہن بھاگوت نے ایک بات یہ بھی کہی کہ سی اے اے ہندوستانی مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تو پھر مظلومیت کی بنیاد پر مسلمانوں کو اس فہرست سے نکالنا جو شہریت دینے والے مذہبی گروہوں کو بنائی گئی ہے، کیا منطق اور جواز رکھتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ آپ ایسا قانون کیوں نہیں بناتے جس میں مذہبی تفرقہ اندازی نہ ہو بلکہ صرف اتنا کہا جائے کہ ظلم اور نا انصافی کا شکار ہر انسان کو بھارت ماں ہمیشہ کی طرح اپنی باہوں میں پناہ دے سکتی ہے۔

اس کے بعد آپ کا اختیار ہے کہ آپ حقائق کی بنیاد پر جس کو چاہیں شہریت دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ ایک خاص مذہبی گروہ یعنی مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے آپ کون سا پُن (ثواب) کمانا چاہتے ہیں؟ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ خود آسام کے موجودہ بی جے پی وزیر اعلی سی اے اے سے پوری طرح سے اتفاق نہ رکھتے ہوئے ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ”آسامی تشخص“ کے لوگوں کے سلسلے میں رویے اور پالیسی سے پوری طرح متفق نہیں ہیں اور اس سلسلے میں وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ بنگالی ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی بھید بھاؤ برتنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

شری موہن بھاگوت نے 4 جولائی کو غازی آباد کے میواڑ یونیورسٹی کیمپس میں جو تقریر کی تھی اور اس میں جن حقائق کی نشاندہی کی تھی ہم میں سے اکثر لوگ اس کی تائید اور حمایت کرتے رہے ہیں اور آج بھی اس کی اسی وسعت ذہنی اور کشادہ قلبی کے ساتھ تائید کرتے ہیں لیکن آسام میں دیا گیا آر ایس ایس سربراہ کا بیان ایک دفعہ پھر ان شکوک و شبہات کو تازہ کر دیتا ہے جو مسلمانوں کے بارے میں اس ملک کی اکثریت کے کچھ لوگوں کے ذہن میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم پھر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے مفاد کو ہندوستان کے مفاد سے الگ نہیں سمجھتے ہیں۔

جو کچھ ہندوستان کے مفاد میں ہے وہی مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ تقسیم وطن کل بھی غلط تھی اور وہ نہ ہندوستان کے لیے صحیح تھا اور نہ مسلمانوں کے حق میں، لیکن وہ جرم جو اجتماعی ہو اس کے لئے صرف کسی ایک فرقے کو موردِ الزام قرار نہیں دینا چاہیے۔ اس ملک کی بہبودی، بہتری اور تعمیر و ترقی کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے لیکن یہ جبھی ہوگا جب:۔

 آ ملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک

(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔)