آوازدی وائس، بھوپال
جمعیت علمائے ہند کی گورننگ باڈی کونسل کے بھوپال میں ہونے والے اجلاس کے دوران تنظیم کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے خطاب کیا اور کئی اہم باتیں کہیں۔ سابق ایم پی مولانا محمودمدنی نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ہم دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں ۔ایک دوسرے کی ثقافت اور مذہب کا احترام کریں لیکن لوگوں کو دین اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بھی آگاہ کریں۔
انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے مشکل حالات اگر پیش آئیں تو صبر کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قران کریم سے رہنمائی ملتی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق و صداقت اور محبت و ہمدردی کے جواب میں مشرکین مکہ کی طرف سے ظلم و ستم بدخلقی اور بہیمت پیش کی جاتی تھی تو اس وقت حق تعالی جل مجدہ نے رہنمائی فرمائی۔
چنانچہ قران مجید کی سورہ نمبر 46 آیت نمبر 35 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں: صبر کرو جیسا کہ اول العزم رسولوں نے صبر و استقامت سے کام لیا اور خدا پر بھروسہ کرو۔ سورۃ نمبر 33، آیت نمبر 48 میں پروردگار عالم فرماتے ہیں :اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کرو اور خدا پر بھروسہ کرو۔قران مجید کی سورہ نمبر 16 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ۔قران مجید کی سورہ نمبر 41 آیت نمبر 34 میں ارشاد فرمایا برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کر دو۔
خواجہ غریب نواز کے طریقہ کو اپنائیں
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمیں دعوتی مزاج بنانے کی ضرورت ہے عداوتی مزاج نہیں۔ یاد رکھیے شہاب الدین محمد غوری والی دہلی کو چھوڑ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے پرتھوی راج کے اجمیر میں رہنے کا فیصلہ کیا اور مشکل حالات میں داعیانہ طریقہ اختیار کر کے ہمدردی اور خدمت خلق کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے سینوں کو نور ایمان سے منور اور ان کے دلوں کو توحید و رسالت کی روشنی سے مالا مال کیا اور دلوں پر حکمرانی کی وجہ سے سلطان الہند کہلائے۔
ہندوستان کی دھرتی رسولوں کی سرزمین
مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام سب سے قدیم مذہب ہے جو اسی دھرتی سے شروع ہوا متعدد اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سب سے پہلے پیغمبر ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام ،اسی خطے میں تشریف لائے۔ حضرت آدم پہلے انسان تھے، پہلے مسلمان اور پہلے نبی تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آفاقی ہے ۔کسی زمین یا خطے کے ساتھ محدود نہیں ۔اس لیے ہندوستان کی دھرتی مسلمانوں کے لیے کبھی اجنبی نہیں رہی اور نہ رہے گی انشاءاللہ۔
بزرگوں نے ہندوستان کے لئے مدینہ چھوڑا
انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا احتشام الحق کاندھلوی رحمہ اللہ علیہ 1947 کے فسادات میں مولانا ظہیر الحسن صاحب کی تعزیت میں حضرت مولانامدنی رحمۃ اللہ علیہ کاندھلہ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا ہمت و استقلال کے ساتھ ہندوستان میں جمے رہو۔ مدینہ منورہ میں میرے ذاتی مکانات بھی ہیں اور بھائی بھتیجے بھی۔ مجھے ہندوستان میں رہنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں پھر بھی میں نے طے کر لیا ہے کہ ہندوستان نہیں چھوڑوں گا۔
اس لیے کہ مخلوق خدا کی جو خدمت یہاں رہ کر انجام دے سکتا ہوں وہ مدینہ منورہ میں نہیں ہو سکتی۔ اسی کشت و خون کے دوران بستی حضرت نظام الدین اولیاء میں حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تو حالات سے سخت متاثر تھے چہرہ مبارک سے غیض و غضب کے آثار نمایاں تھے آپ نے پھر بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا میں نے تو ہندوستان میں مرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جہاد کا مطلب کیا ہے؟
مولانا محمود مدنی نے اسلام کے نظریہ جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے اسلام کے مقدس اصطلاحات مثلا جہاد کے لفظ کو ایک گالی فساد اور تشدد کا ہم نام بنا دیا ہے۔ لوجہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد وغیرہ جیسے جملے استعمال کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری اور ان کے مذہب کی توہین کی جا رہی ہے ۔
افسوس کا مقام ہے کہ حکومت اور میڈیا میں بیٹھے ذمہ دار افراد بھی اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ تو پرانے دور سے چلا آ رہا ہے کہ کہیں بھی دہشت گردانہ عمل پیش آ جائے تو اس کو جہاد کا نام دے کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔لفظ جہاد کا استعمال ہوا ہے فرد سے لے کر سما ج اور انسانیت کی بھلائی، ان کی سربلندی اور ان کی عزت و وقار کے قیام کے لیے ہوا ہے۔ جہاں جنگ و قتال کے معنی میں استعمال ہوا ہے وہ بھی ظلم و فساد کے خاتمے اور انسانیت کی بقا کے لیے، اس لیے جب جب ظلم ہوگا تب تک جہاد ہوگا۔
ہندوستان میں جہاد نہیں
مولانا محمود مدنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جہاد کوئی انفرادی ،نجی یا انتقامی کاروائی نہیں ۔ صرف ایک ذمہ دار اور شرعی اصولوں کے مطابق قائم ریاست ہی جہاد کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک میں جہاں اسلامی ریاست کا کوئی تصور موجود نہیں، وہاں جہاد کے نام پر کوئی گفتگو موضوع بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی وفاداری کے پابند ہیں اور حکومت بھی پابند ہے کہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔اگر وہ ناکام ہوتی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری ہوگی ،ہماری ذمہ داری نہیں ہوگی۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آپ صرف اپنے اوپر نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت پر نظر ڈالیے ،کیا دنیا میں آج کوئی زندہ قوم ایسی بھی ہے جو مشکلات میں محصور نہ ہو۔
اس لیے میں کہتا ہوں کہ مشکلات زندگی کی علامت ہیں ۔مردہ قومیں مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتیں، وہ تو سرنڈر کر دیتی ہیں۔مردہ قوم مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتیں، لیکن یاد رکھیے زندہ قومیں ہی آزمائی جاتی ہیں مردانہ وار مشکلات کا مقابلہ کیا کرتی ہیں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ہم تمہاری آزمائش کرتے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے، مال اور جان سے اور پھلوں کے نقصان سے اور صبر کرنے والوں کے لیے بشارت ہے۔
بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ کریں
مولانا مدنی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اولاد کی اچھی تعلیم وتربیت کریں۔ بچہ اللہ تعالی کے انعاموں میں سے ایک بڑا انعام ہے لیکن دوسری طرف اللہ تعالی نے اسے ازمائش بھی قرار دیا ہے ۔اس لیے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندان سماج اور انسانیت کے لیے زہر بننے کے بجائے تریاق بن سکے۔ آنکھوں کا کاٹا بننے کے بجائے ،انکھوں کی ٹھنڈک بن سکے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچہ وہ پودا ہے جسے اگر ابتدا میں سیدھا لگا دیا جائے تو زندگی بھر سیدھا پھل دیتا ہے اور اگر بنیاد ٹیڑھی ہو جائے تو پوری عمارت کمزور ہو جاتی ہے ۔
انہوں نے کہا اسلام نے بچوں کی صحیح تربیت کو والدین کے اولین ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ارشاد باری ہے اپنے آپ کو بھی بچاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی اگ سے بچاؤ۔ والدین کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ بچے کو اسکول بھیج دیں بلکہ ان کے کردار، عادت، زبان، سچائی، دیانت ،ادب ،وقت کی قدر اور عبادات کی پابندی کی نگرانی کی بھی ذمہ داری ہے۔
ان کے دین کی حفاظت کے لیے تدبیر اختیار کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ان کو مکتب کی تعلیم بھی دلائی جائے۔ یاد رکھیے کہ جو بچے اپنی تعلیم کے ساتھ اخلاق سیکھتے ہیں وہ اگے چل کر والدین کا سہارا خاندان کی عزت اور قوم کی طاقت بنتے ہیں۔
خاندان کی مضبوط تشکیل اور بچوں کی ذہنی اخلاقی اور جذباتی نشوونما بھی لازمی ہے۔ ذرا دھیان رکھیے گا، اگر آپ نے بچے کو سب کچھ دے دیا لیکن جذباتی طور پر اپنے بیٹے ،بیٹی کا دھیان نہیں رکھا اور جذباتی طور پر ان کو اپنے سے دور کر دیا، اس کا جو نقصان ہوتا ہے ،اتنا نقصان کسی چیز کا نہیں ہوتا۔ جذباتی نشوونما کے لیے خوشگوار اور پرسکون گھریلو ماحول بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا ماحول تب پیدا ہوتا ہے جب گھر کے افراد محبت احترام اور تحمل کے ساتھ رہیں۔