صوفی تعلیمات میں خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کو ’منکر‘ کہاجاتا ہے ۔ پروفیسر اخلاق آہن

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-11-2025
صوفی تعلیمات میں خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کو ’منکر‘ کہاجاتا ہے ۔ پروفیسر اخلاق آہن
صوفی تعلیمات میں خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کو ’منکر‘ کہاجاتا ہے ۔ پروفیسر اخلاق آہن

 



نئی دہلی : حضرت یحی منیری نے ان لوگوں کو جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں انہیں ’منکر‘ کہا۔ان لوگوں کو جو زبان سے اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں پختہ اور صداقت پر مبنی یقین کا فقدا ن ہے انہیں’منافقین‘ بتایا۔

ممتاز فارسی اسکالر اورچیئر پرسن،سینٹر فار پرشین اینڈ ایشین اسٹڈیز،اسکول آف لنگویج،، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز،جے این یو پروفیسر اخلاق آہن نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے  انڈیا عرب کلچر سینٹر میں تصوف اور فارسی شاعری۔ روایت و وراثت‘ کے موضوع پر توسیعی خطبے میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر ناصر رضا خان نے خطبے کی صدارت کی۔پروگرام میں تصوف اور فارسی شاعری کی ثروت مند روایت میں گہری دلچپسی رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حاضرین نے معاصر تہذیبی اظہارات میں اس کے دیر پا اثرات کے تعلق سے بامعنی تبادلہ خیال کیا۔

پروفیسر اخلاق آہن تصوف، فارسی زبان وادب اور اسلامی دانشورانہ روایات کے ممتاز اسکالر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حضرت یحی منیری بہار شریف میں شطاری روایت اور سلسلے کے بڑے اور اہم صوفی گزرے ہیں۔’مکتوبات سعدی‘میں حضرت یحی منیری کی تعلیمات و ارشادات کے مطابق  خدا کے سلسلے میں اعتقاد کے تین درجات کی نشان دہی کی ہے۔پروفیسر اخلاق آہن نے اپنی تقریر میں تاریخی ارتقا، فلسفیانہ بنیادوں اور فارسی کی شعری روایات پر زور کے ساتھ صوفی ازم کے ادبی مظاہر کے مختلف النوع موضوعات پر بات کی۔

لفظ ’تصوف‘کے ماخذ پر بحث کے ساتھ انہوں نے اپنی گفتگو شروع کی اور اس کے متعدد عالمانہ تشریحات سے سامعین کو روبروکرایا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ’صوفی‘ کی اصطلاح مختلف بنیادوں سے منسلک ہے۔ان میں ایک اصطلاح’صفہ‘ سے ہے جو اصحاب صفہ کی طرف دلالت کرتاہے یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی جانب۔وہ صحابہ جو مسجد نبوی کی قریب رہتے تھے اور جن کی زندگی سادگی،روحانیت اور فقر سے عبارت تھی۔دوسرے لسانی انسلاکات میں ’صفا‘ (صفائے قلب) اور’صوف‘یعنی اون جو اوائل صوفیا ئے کرام سادہ اونی کپڑے پہنتے تھے۔

پروفیسر آہن نے بتایاکہ صوفی ازم نے کس طرح فرد کے روحانی رجحان سے نظریاتی اور منظم تحریک کی شکل میں تبدیل ہوگئی۔یہ تحریک رفتہ رفتہ زیادہ منظم ہوئی خاص طورسے مکہ اور مدینہ میں یہ جس طرح نشو ونما پائی شعوری طورپر خود کو علائق دنیا سے دور کرکے۔کلیدی خطبے کے مقرر نے دانشورانہ اور روحانی فریم ورک کی بھی وضاحت کی جس کے توسط سے صوفیا نے تصور خدا کو تاریخی طورپر دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں تصور خدا میں ثنویت کے جائزے سمیت الوہیت کے مشرقی تصور کے ساتھ ہیگل کے کاموں کے حوالے بھی دیے۔

انہوں نے ہیگل کے تصورات کو مارکس کے ذریعے الٹ کرنے پر بھی اختصار کے ساتھ اظہار خیال کیااور اجاگر کیاکہ کس طرح یہ فلسفیانہ بحثوں نے دینیاتی فکر اور بحث کو متاثر کیاہےصوفی وہ ہیں جو گہرے روحانی تجربے کے توسط سے خدا کی ہستی کا عرفان رکھتے ہیں۔پروفیسر آہن نے بغداد کی منگولوں کے ہاتھوں تباہی و بربادی کے بعد اسلامی دانشورانہ اور تہذیبی و ثقافتی زندگی میں زبردست تبدیلی کو اجاگرکیا۔

بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کی وجہ سے ہندوستان اور بالخصوص دیہی علاقوں میں ہجرت ہوئی۔اس زمانے میں چشتیہ اور نقشبندیہ جیسے بڑے صوفی سلاسل کو فروغ ملا۔فارسی کی ادبی روایات چشتیہ اور نقشبندیہ صوفی نظام کے زیر اثر ڈرامائی تبدیلی پیدا ہوئی۔حماسہ(رزمیہ شاعری) اور قصیدہ سے غزل کی طرف منتقل ہوئی جوکہ عشق حقیقی اور عرفان ذات کے موضوعات کو مرکوز تھی۔رومی،سعدی اور حافظ جیسے شعراصوفیانہ خیالات و افکار کے اظہار میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر ناصر رضا خان نے سب سے پہلے توسیعی خطبے کے انعقاد کی منظوری مرحمت فرمانے کے لیے عزت مآب شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف کا شکریہ ادا کیا۔نیز انہوں نے پروگرام کے انعقاد کے سلسلے میں تعاون کے لیے پرو فیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کابھی شکریہ ادا اکیا۔اس کے بعد انہو ں نے موضوع کا تعارف پیش کیا اور آج کے خطبے کی اہمیت و معنویت اجاگر کرتے ہوئے تصوف اور فارسی شاعری پر گفتگو کی۔انہوں نے اپنی گفتگو میں تصوف میں تبلیغی کی گئی کثیر تہذیبی شناخت پر توجہ مرکوز کی اور بتایا کہ رومی کے پیغام میں جو شناخت سے ماور اہوکر رحم دلی کی تائید اور وکالت کرتا ہے آج کی دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمد مہتاب عالم نے مقرر کو باقاعدہ متعارف کرایا اور موضوع سے متعلق روایات کو تناظر میں پیش کیا۔انہوں نے معاصر سماجی ودانشورانہ مباحث کے اندر رہتے ہوئے موضوع کی اہمیت و وقعت کو آج کے تناظر میں دکھایا۔انہوں نے آج کے مہمان مقرر کی بیش قیمت خدمات اور ان کے اختصاص کا بھی ذکر کیا۔

خطبے کے بعد سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ طلبہ اور فیکلٹی اراکین نے خطیب کے ساتھ سرگرمی کے مذاکرے میں حصہ لیا اور صوفی فلسفہ، فارسی کی ادبی روایات اور آج کے دور میں صوفیانہ افکار کی معنویت کے تعلق سے اہم سوالات پوچھے۔ڈاکٹر ذوالفقار علی انصاری کے اظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام ہوا۔پروگرام کو ثروت مند بنانے کے لیے انہوں نے خطیب، صدر،منتظمین اور شرکا کے بامعنی تعاون کا شکریہ ادا کیا۔