نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں “داراشکوہ اور ہندوستان کی مشترکہ قدریں” کے عنوان سے ایک اہم اور فکر انگیز پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و ادبی نشست میں ملک کی ممتاز علمی۔ ادبی اور فکری شخصیات نے شرکت کی اور داراشکوہ کی شخصیت۔ فکر۔ فلسفہ اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے فروغ میں ان کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس نئی دہلی کے صدر شری رام بہادر رائے شریک ہوئے جبکہ مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے رجسٹرار پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے شرکت کی۔ پینلسٹ کے طور پر دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے صدر پروفیسر علیم اشرف خان اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ تاریخ و ثقافت سے وابستہ پروفیسر فرحت نسرین شریک ہوئیں۔ پروگرام کے آغاز میں قومی اردو کونسل کی جانب سے تمام معزز مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال کیا گیا۔
داراشکوہ نے محبت اور علم کا راستہ اختیار کیا: ڈاکٹر شمس اقبال
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پینل ڈسکشن ایک ایسی عظیم شخصیت کے افکار و خدمات کو سمجھنے کا اہم موقع ہے جس نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب۔ رواداری۔ علم و حکمت اور فکری ہم آہنگی کو نئی جہت عطا کی۔
انہوں نے کہا کہ داراشکوہ نے اقتدار اور سلطنت کے بجائے علم۔ حکمت اور انسان دوستی کو ترجیح دی۔ ان کی شخصیت تعصب کے مقابلے میں محبت۔ کشادگی اور مکالمے کی علامت تھی۔ وہ حقیقت کی تلاش میں ہمیشہ سرگرم رہے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے سنسکرت زبان سیکھی تاکہ ہندوستانی فلسفہ۔ اپنشد۔ وید اور دیگر علوم کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ داراشکوہ کی مشہور تصنیف “مجمع البحرین” دراصل دو عظیم تہذیبی دھاروں کے سنگم اور فکری اتحاد کی علامت ہے۔ انہوں نے صدیوں پہلے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اختلاف کے باوجود اتحاد اور مکالمے کی فضا قائم رکھی جا سکتی ہے۔ ان کی زندگی آج بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے بھی باوقار اور صحت مند مکالمہ ممکن ہے۔
آج کے ہندوستان نے داراشکوہ کو دوبارہ دریافت کیا ہے: رام بہادر رائے
مہمان خصوصی شری رام بہادر رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ ہندوستان میں داراشکوہ کی فکر اور شخصیت کو نئے سرے سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس پینل ڈسکشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ داراشکوہ ہندوستانی رواداری اور مشترکہ تہذیب کے بڑے نمائندہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ داراشکوہ دراصل شہنشاہ اکبر کی رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ آج کے ہندوستانی معاشرے میں ان کے فکر و فلسفے کو مزید عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں برداشت۔ محبت اور فکری ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
رام بہادر رائے نے داراشکوہ سے متعلق مختلف اہم کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کئی تصانیف ایسی ہیں جن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ نئی نسل ان کے افکار سے واقف ہو سکے۔ انہوں نے قومی اردو کونسل کی جانب سے “سکینۃ الاولیاء” کے اردو ترجمے کی اشاعت کو ایک اہم علمی اور تہذیبی پیش رفت قرار دیا۔
داراشکوہ کی پوری زندگی علم و فلسفے کے فروغ میں گزری: پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد
مہمان اعزازی پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ داراشکوہ ایک وسیع المطالعہ۔ صاحبِ فکر اور بلند نظر شہزادہ تھے۔ انہوں نے ہندوستانی فلسفے اور اسلامی فلسفے کا تقابلی مطالعہ کیا اور دونوں کے درمیان فکری قربت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ داراشکوہ نے اپنی پوری زندگی علم و فن۔ تحقیق اور فکری جستجو کے لیے وقف کر دی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستانی تہذیب صرف ایک مذہب یا ایک طبقے کی نمائندہ نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے اشتراک سے بنی ہوئی مشترکہ تہذیب ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں داراشکوہ کی تصانیف کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے افکار کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت سے روشناس ہو سکے۔
داراشکوہ کی فکر مذہبی تفریق سے بالاتر تھی: پروفیسر علیم اشرف خان
پینلسٹ پروفیسر علیم اشرف خان نے کہا کہ داراشکوہ کی فکر انتہائی وسیع اور ہمہ گیر تھی۔ ان کے نزدیک مذہبی اختلافات کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی بلکہ وہ مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان فکری قربت کے قائل تھے۔
انہوں نے کہا کہ بعض کتابیں غلط طور پر داراشکوہ سے منسوب کر دی گئی ہیں جن میں “یوگ وسشٹ” جیسی تصانیف بھی شامل ہیں۔ تاہم اپنشدوں کے ان کے تراجم نے یورپ میں بھی داراشکوہ کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ داراشکوہ کی شاعری۔ علمی خدمات اور فکری وراثت ناقابل فراموش ہیں اور ان پر مزید تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔
داراشکوہ عوام میں بے حد مقبول تھے: پروفیسر فرحت نسرین
پروفیسر فرحت نسرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ داراشکوہ دہلی کے عوام میں بے حد مقبول تھے اور لوگ انہیں محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے نفسیاتی اور سماجی زاویوں سے بھی داراشکوہ کی شخصیت کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ ان کی شخصیت میں نرم خوئی۔ فکری وسعت اور انسان دوستی نمایاں تھی۔انہوں نے کہا کہ داراشکوہ کی شخصیت محض ایک مغل شہزادے کی نہیں بلکہ ایک مفکر۔ محقق اور تہذیبی رابطے کے علمبردار کی حیثیت رکھتی ہے۔
“سکینۃ الاولیاء” کے اردو ترجمے کا اجرا
اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے شائع کردہ داراشکوہ کی معروف تصنیف “سکینۃ الاولیاء” کے اردو ترجمے کا بھی اجرا عمل میں آیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ پروفیسر علیم اشرف خان نے انجام دیا ہے جسے علمی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
A thought-provoking panel discussion on “Dara Shikoh and India’s Syncretic Ethos” was organized by the NCPUL at IIC, New Delhi. The Urdu translation of “Sakinat-ul-Auliya” was also released on the occasion.#DaraShikoh #NCPUL #CompositeCulture #Urdu #IIC #NewDelhi pic.twitter.com/rBeOlPLkaU
— National Council for Promotion of Urdu Language (@CouncilUrdu) May 23, 2026
پروگرام میں ممتاز علمی و ادبی شخصیات کی شرکت
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن کنوینر خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی نے انجام دی جبکہ ڈاکٹر مسرت ریسرچ آفیسر این سی پی یو ایل نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔اس موقع پر قومی اردو کونسل کے اراکین کے علاوہ پروفیسر احمد محفوظ۔ پروفیسر رحمان مصور۔ پروفیسر پرویز اعظمی۔ ڈاکٹر عمران چودھری۔ فیروز بخت احمد۔ جسیم محمد۔ جمشید عادل۔ خالد رضا خان۔ اشرف علی بستوی۔ ساحل آغا۔ جمشید اقبال۔ ڈاکٹر جاوید رحمانی سمیت علم و ادب سے وابستہ بڑی تعداد میں دانشور۔ طلبہ اور شائقین موجود رہے۔